فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پیر کو اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے کیے گئے اعلان کے فوری بعد دائیں بازو کے سیاست دانوں سمیت نیتن یاہو کے اتحادیوں اور کئی روایتی حمایتوں کی جانب سے غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
بعد ازاں اس سخت تنقید کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نے گزشتہ روز فیس بک پر ایک پوسٹ کیا تھا، جس میں انہوں نے اس معاہدے کو منسوخ کردیا جس کے تحت ہزاروں پناہ گزینوں کو اسرائیل میں رہنے کی عارضی طور پر اجازت دی گئی تھی، تاہم انہوں نے کہا کہ ایک طویل تبادلہ خیال کے بعد اس معاہدے کو ختم کردیا گیا۔نیتن یاہو نے کہا کہ اس معاہدے پر بڑی تعداد میں تبصرے سننے کو ملے جس کے بعد میں نے خیالات کا جائزہ لیا اور اس معاہدے کو ختم کردیا گیا۔
خیال رہے کہ یہ معاہدے اس طریقے سے تیار کیا گیا تھا جس کے تحت جنوری میں نیتن یاہو کی جانب سے متنازع منصوبے کے تحت ہزاروں پناہ گزیونوں کی جبری طور پر رنداوا واپسی کے امکانات کو ختم کیا تھا۔
اقوام متحدہ کے ساتھ اس معاہدے کے تحت کم از کم 16 ہزار 250 پناہ گزینوں کو مغربی ممالک میں دوبارہ آباد کیا جانا تھا، اس کے بدلے میں اسرائیل نے دوسرے مقامات پر موجود ہر پناہ گزین کو عارضی طور پر رہائش دینی تھی۔
یاد رہے کہ اسرائیل میں سوڈانی اور ایریٹریا مہاجرین کی موجودگی ایک بڑا سیاسی معاملہ ہے اور اس وقت اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پہلے ہی کرپشن کے معاملے کی تحقیقات کا سامنے کرنے کی وجہ سے سخت دباؤ کا شکار ہیں۔ادھر اسرائیلی وزیراعظم کے اپنے وزراء نے اس معاہدے کی مخالفت کی اور وزیر خزانہ موسے کاہلون کا کہنا تھا کہ انہیں پیر تک اس معاملے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔
اس کے علاوہ نیتن یاہو کی جانب سے گزشتہ روز جنوبی تل ابیب کے رہائشیوں سے بات چیت کی گئی، جس پر وہاں کے مکینوں نے اس معاہدے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔دوسری جانب اس معاہدے کی منسوخی کے بعد ہزاروں پناہ گزینوں اور ان کے حمایتیوں نے یروشلم اور تل ابیب میں نیتن یاہو کے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔
یروشلم میں ہونے والے احتجاج میں مظاہرین کا کہنا تھا کہ ’ ہم نے سوچا تھا کہ اگر ہم یہاں آئین گے تو یہاں جمہوریت ہے اور اسرائیل ہمارے حقوق کا تحفظ کرے گا لیکن انہوں نے ہمارے دماغ اور زندگیوں سے کھیلا ہے۔علاوہ ازیں معاہدے کی منسوخی کے بارے میں اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کی جانب سے کہا گیا کہ انہیں اس معاہدے کی منسوخی کے بارے میں خبروں سے پتہ چلا تھا۔
