غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے فلسطینیوں کے حق واپسی کے لیے ہونے والے احتجاج کے نئے مرحل کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واپسی مارچ کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ نے کہا کہ ’ہم اپنے مقدس مقامات، اپنے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں واپس جائیں گے۔ ہمارے پناہ گزین شہری جہاں بھی ہیں وہ واپس اپنے اپنے علاقوں میں جا کر آباد ہوں گے۔اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی ریاست کے ساتھ جاری تذلیل پر مبنی سیکیورٹی، سیاسی اور دیگر تعاون کو ختم کیا جائے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار مشرقی غزہ میں ’واپسی کیمپ‘ میں مارچ کے نئے مرحلے کے افتتاح کے موقع پر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری فلسطینی قوم اور قیادت کو اس موقع پر حق واپسی مارچ میں ایک صف میں ہونا چاہیے۔ ایسی قیادت جو قوم کی امنگوں کی ترجمانی نہ کرسکے وہ قیادت کے لائق نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عظیم الشان واپسی تحریک اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ واپسی غزہ مارچ نے نام نہاد سیاسی اور مذاکراتی عمل کو تار تار کردیا ہے۔ فلسطینی قوم ایک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے۔ ذلت، نام نہاد سیکیورٹی تعاون، رذیل سیاسی دوستی اور سیکیورٹی ایڈز‘ کا باب بند ہونے والا ہے۔ ان کا اشارہ اسرائیل کے ساتھ جاری فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی، سیاسی اور تجارتی تعاون کی جانب تھا۔
اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ فلسطینی قوم آزادی کے معرکے میں صف اوّل پر ہے اور نسل پرستی کا مقابلہ کررہی ہے۔
غزہ کے عوام محاصرے اور قابض دشمن کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ ہم شہداء کے خون کے ساتھ وفاداری، مزاحمت، دیرینہ مطالبات اور حق واپسی کے لیے جدو جہد جاری رکھیں گے۔
حماس رہنما نے کہا کہ اسرائیلی ریاست پُرامن فلسطینی مظاہرین کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ مشرقی غزہ میں جاری مارچ پُرامن اور فلسطینی قوم کی تہذیب کا عکاس ہے۔ کئی قیمتی جانوں کی قربانی دینے کے باوجود ہم نے واپسی مارچ کے اہم اہداف حاصل کیے ہیں۔ یہ آغاز سفر ہے اور ہمارا سفر جاری رہے گا۔
