غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے پولٹ بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے فلسطین میں ’یوم الارض‘ کے موقع پر اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے حوالے سے عالمی اور مقامی رہنماؤں سے رابطےÂ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ نے اسلامی جہاد کے رہنما زیاد النخالہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔اسماعیل ھنیہ کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ نےاسلامی جہاد کے جنرل سیکرٹی سے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی حالیہ ریاستی دہشت گردی پر بات چیت کی۔
اسماعیل ھنیہ نے غزہ میں ’یوم الارض‘ ریلیوں پر صیہونی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں، غزہ کی ناکہ بندی اور دیگر صیہونی جرائم کے حوالے سے کو آگاہ کیا۔
حماسÂ اور اسلامی جہاد کے رہنماؤں نے فلسطینیوں کے خلاف صیہونی فوج کے وحشیانہ کریک ڈاؤن اور قتل عام کی روک تھام کے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے پر زوردیا۔ انہوں نے امریکا کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم کی قرارداد ویٹو کیے جانے کی بھی شدید مذمت کی اورکہا کہ صیہونی ریاستÂ اور امریکا مل کر فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کا استحصال کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ 30 مارچ کو فلسطین میں ’یوم الارض‘ کی مناسبت سے احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی شہریوں نے یوم الارض پر مقبوضہ فلسطین کی طرف مارچ کیا تو اسرائیلی فوج ان پر براہ راست فائرنگ کی اور آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 18 فلسطینی شہید اور ڈیڑھ ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔
