غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین کی طرف سے پُرامن فلسطینی مظاہرین کو نشانہ بنانے قاتل فوجی اہلکار کی تعریف کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے والے فوجی کو تمغہ دینا بے گناہوں کے قتل عام کی ذمہ داری قبول کرنے اور دہشت گردی کا اعتراف کرنے کے مترادف ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے ایک بیان میں بتایا کہ صیہونی وزیر دفاع نے نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنا کر شہید کرنے کے مرتکب فوجی کی تعریف کرنا اور اسے تمغہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیلی ریاست ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو شہید کررہی ہے۔ غزہ میں نہتے فلسطینی مظاہرین کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا تمام ترذمہ دار اسرائیل اور اس کی قابض فوج ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی سیاسی اور عسکری لیڈر شپ اوپر سے نیچے تک جنگی جرائم میں ملوث ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع نے مشرقی غزہ میں نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنا کر شہید کرنے والے ایک فوجی کو تمغہ جرات دینے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اسرائیلی وزیردفاع کے اس اقدام کو ناقابل قبول فلسطینیوں کے قتل عام کی حوصلہ افزائی قرار دیا ہے۔
